الہي عقل خجستہ پے کو ذرا سي ديوانگي سکھا دے
اسے ہے سودائے بخيہ کاري ، مجھے سر پيرہن نہيں ہے
ملا محبت کا سوز مجھ کو تو بولے صبح ازل فرشتے
مثال شمع ہے تو ، تري کوئي انجمن نہيں ہے
!يہاں کہاں ہم نفس ميسر ، يہ ديس نا آشنا ہے اے
وہ چيز تو مانگتا ہے مجھ سے کہ زير چرخ کہن نہيں ہے
نرالا سارے جہاں سے اس کو عرب کے معمار نے بنايا
بنا ہمارے حصار ملت کي اتحاد وطن نہيں ہے
کہاں کا آنا ، کہاں کا جانا ، فريب ہے امتياز عقبي
نمود ہر شے ميں ہے ہماري ، کہيں ہمارا وطن نہيں ہے
مدير 'مخزن' سے کوئي اقبال جا کے ميرا پيام کہہ دے
جوکام کچھ کر رہي ہيں قوميں ، انھيں مذاق سخن نہيں ہے
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا