تلاش گوشہء عزلت ميں پھر رہا ہوں ميں
يہاں پہاڑ کے دامن ميں آ چھپا ہوں ميں
شکستہ گيت ميں چشموں کے دلبري ہے کمال
دعائے طفلک گفتار آزما کي مثال
ہے تخت لعل شفق پر جلوس اختر شام
بہشت ديدہء بينا ہے منظر شام
سکوت شام جدائي ہوا بہانہ مجھے
کسي کي ياد نے سکھلا ديا ترانہ مجھے
يہ کيفيت ہے مري جان ناشکيبا کي
مري مثال ہے طفل صغير تنہا کي
اندھيري ميں کرتا ہے وہ سرود آغاز
صدا کو اپني سمجھتا ہے غير کي آواز
يونہي ميں دل کو پيام شکيب ديتا ہوں
شب فراق کو گويا فريب ديتا ہوں
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا