سن اے طلب گار پہلو! ميں ناز ہوں ، تو نياز ہو جا
ميں غزنوي سومنات کا ، تو سراپا اياز ہو جا
نہيں ہے وابستہ زير گردوں کمال شان سکندري سے
تمام ساماں ہے تيرے سينے ميں ، تو بھي آئينہ ساز ہو جا
غرض ہے پيکار زندگي سے کمال پائے ہلال تيرا
جہاں کا فرض قديم ہے تو ، ادا مثال نماز ہو جا
نہ ہو قناعت شعار گلچيں! اسي سے قائم ہے شان تيري
وفور گل ہے اگر چمن ميں تو اور دامن دراز ہو جا
گئے وہ ايام ، اب زمانہ نہيں ہے صحرانورديوں کا
جہاں ميں مانند شمع سوزاں ميان محفل گداز ہو جا
وجود افراد کا مجازي ہے ، ہستي قوم ہے حقيقي
فدا ہو ملت پہ يعني آتش زن طلسم مجاز ہو جا
يہ ہند کے فرقہ ساز اقبال آزري کر رہے ہيں گويا
بچا کے دامن بتوں سے اپنا غبار راہ حجاز ہو جا
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا