جلوہ کہ ہے جس سے تمنا بے تاب
پالتا ہے جسے آغوش تخيل ميں شباب
ابدي بنتا ہے يہ عالم فاني جس سے
ايک افسانہ رنگيں ہے جواني جس سے
جو سکھاتا ہے ہميں سر بہ گريباں ہونا
منظر عالم حاضر سے گريزاں ہونا
دور ہو جاتي ہے ادراک کي خامي جس سے
عقل کرتي ہے تاثر کي غلامي جس سے
آہ! موجود بھي وہ کہيں ہے کہ نہيں
خاتم دہر ميں يا رب وہ نگيں ہے کہ نہيں
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا