!قدرت کا عجيب يہ ستم ہے
انسان کو راز جو بنايا
راز اس کي سے چھپايا
بے تاب ہے ذوق آگہي کا
کھلتا نہيں بھيد زندگي کا
حيرت آغاز و انتہا ہے
آئينے کے گھر ميں اور کيا ہے
ہے گرم خرام موج دريا
دريا سوئے سجر جادہ پيما
بادل کو ہوا اڑا رہي ہے
شانوں پہ اٹھائے لا رہي ہے
تارے مست شراب تقدير
زندان فلک ميں پا بہ زنجير
خورشيد ، وہ عابد خيز
لانے والا پيام بر خيز
مغرب کي پہاڑيوں ميں چھپ کر
پيتا ہے مے شفق کا ساغر
لذت گير وجود ہر شے
سر مست مے نمود ہر شے
کوئي نہيں غم گسار انساں
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا