نہ مجھ سے کہہ کہ اجل ہے پيام عيش و سرور
نہ کھينچ نقشہ کيفيت شراب طہور
فراق حور ميں ہو سے ہمکنار نہ تو
پري کو شيشہ الفاظ ميں اتار نہ تو
مجھے فريفتہ ساقي جميل نہ کر
بيان حور نہ کر ، ذکر سلسبيل نہ کر
مقام امن ہے جنت ، مجھے کلام نہيں
شباب کے ليے موزوں ترا پيام نہيں
شباب ، آہ! کہاں تک اميدوار رہے
وہ عيش ، عيش نہيں ، جس کا انتظار رہے
وہ کيا جو محتاج چشم بينا ہو
نمود کے ليے منت پذير فردا ہو
عجيب چيز ہے احساس زندگاني کا
عقيدہ 'عشرت امروز' ہے جواني کا
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا