زندگاني ہے مري مثل رباب خاموش
جس کي ہر رنگ کے نغموں سے ہے لبريز آغوش
بربط کون و مکاں جس کي خموشي پہ نثار
جس کے ہر تار ميں ہيں سينکڑوں نغموں کے
محشرستان نوا کا ہے اميں جس کا سکوت
اور منت کش ہنگامہ نہيں جس کا سکوت
آہ! اميد محبت کي بر آئي نہ کبھي
چوٹ مضراب کي اس ساز نے کھائي نہ کبھي
مگر آتي ہے نسيم طور کبھي
سمت گردوں سے ہوائے نفس حور کبھي
چھيڑ آہستہ سے ديتي ہے مرا تار حيات
جس سے ہوتي ہے رہا روح گرفتار حيات
نغمہ ياس کي دھيمي سي صدا اٹھتي ہے
اشک کے قافلے کو بانگ درا اٹھتي ہے
جس طرح رفعت شبنم ہے مذاق رم سے
ميري فطرت کي بلندي ہے نوائے غم سے
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا