فرقت آفتاب ميں کھاتي ہے پيچ و تاب صبح
چشم شفق ہے خوں فشاں اختر شام کے ليے
رہتي ہے قيس روز کو ليلي شام کي ہوس
اختر صبح مضطرب تاب دوام کے ليے
کہتا تھا قطب آسماں قافلہ نجوم سے
ہمرہو ، ميں ترس گيا لطف خرام کے ليے
سوتوں کو نديوں کا شوق ، بحر کا نديوں کو
موجہء بحر کو تپش ماہ تمام کے ليے
ازل کہ پردہء لالہ و گل ميں ہے نہاں
کہتے ہيں بے قرار ہے جلوہء عام کے ليے
راز حيات پو چھ لے خضر خجستہ گام سے
زندہ ہر ايک چيز ہے کوشش ناتمام سے
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا