ڈرتے ڈرتے دم سے
تارے کہنے لگے قمر سے
نظارے رہے وہي فلک پر
ہم تھک بھي گئے چمک چمک کر
کام اپنا ہے صبح و شام چلنا
چلنا چلنا ، مدام چلنا
بے تاب ہے اس جہاں کي ہر شے
کہتے ہيں جسے سکوں، نہيں ہے
رہتے ہيں ستم کش سب
تارے، انساں، شجر، حجر سب
ہوگا کبھي ختم يہ سفر کيا
منزل کبھي آئے گي نظر کيا
کہنے لگا چاند ، ہم نشينو
!اے مزرع شب کے خوشہ چينو
جنبش سے ہے زندگي جہاں کي
يہ رسم قديم ہے يہاں کي
ہے دوڑتا اشہب زمانہ
کھا کھا کے طلب کا تازيانہ
اس رہ ميں مقام بے محل ہے
پوشيدہ قرار ميں اجل ہے
چلنے والے نکل گئے ہيں
جو ٹھہرے ذرا، کچل گئے ہيں
انجام ہے اس خرام کا حسن
آغاز ہے عشق، انتہا حسن
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا