جب دکھاتي ہے عارض رنگيں اپنا
کھول ديتي ہے کلي سينہء زريں اپنا
جلوہ آشام ہے صبح کے مے خانے ميں
زندگي اس کي ہے خورشيد کے پيمانے ميں
سامنے مہر کے چير کے رکھ ديتي ہے
کس قدر سينہ شگافي کے مزے ليتي ہے
مرے خورشيد! کبھي تو بھي اٹھا اپني نقاب
بہر نظارہ تڑپتي ہے نگاہ بے تاب
تيرے جلوے کا نشيمن ہو مرے سينے ميں
عکس آباد ہو تيرا مرے آئينے ميں
زندگي ہو ترا نظارہ مرے دل کے ليے
روشني ہو تري گہوارہ مرے دل کے ليے
ذرہ ذرہ ہو مرا پھر طرب اندوز حيات
ہو عياں جوہر انديشہ ميں پھر سوز حيات
اپنے خورشيد کا نظارہ کروں دور سے ميں
صفت غنچہ ہم آغوش رہوں نور سے ميں
جان مضطر کي حقيقت کو نماياں کر دوں
دل کے پوشيدہ خيالوں کو بھي عرياں کر دوں
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا