تجھ کو دزديدہ نگاہي يہ سکھا دي کس نے
رمز آغاز محبت کي بتا دي کس نے
ہر ادا سے تيري پيدا ہے محبت کيسي
نيلي آنکھوں سے ٹپکتي ہے ذکاوت کيسي
ديکھتي ہے کبھي ان کو، کبھي شرماتي ہے
کبھي اٹھتي ہے ، کبھي ليٹ کے سو جاتي ہے
آنکھ تيري صفت آئنہ حيران ہے کيا
آگاہي سے روشن تري پہچان ہے کيا
مارتي ہے انھيں پونہچوں سے، عجب ناز ہے يہ
چھيڑ ہے ، غصہ ہے يا پيار کا انداز ہے يہ؟
شوخ تو ہوگي تو گودي سے اتاريں گے تجھے
گر گيا جو سينے کا تو ماريں گے تجھے
کيا تجسس ہے تجھے ، کس کي تمنائي ہے
آہ! کيا تو بھي اسي چيز کي سودائي ہے
خاص انسان سے کچھ حسن کا احساس نہيں
صورت دل ہے يہ ہر چيز کے باطن ميں مکيں
شيشہ دہر ميں مانند مے ناب ہے عشق
روح خورشيد ہے، خون رگ مہتاب ہے عشق
دل ہر ذرہ ميں پوشيدہ کسک ہے اس کي
نور يہ وہ ہے کہ ہر شے ميں جھلک ہے اس کي
کہيں سامان مسرت، کہيں ساز غم ہے
کہيں گوہر ہے ، کہيں اشک ، کہيں شبنم ہے
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا