جس طرح ڈوبتي ہے کشتي سيمين قمر
نور خورشيد کے طوفان ميں ہنگام
جسے ہو جاتا ہے گم کا لے کر آنچل
چاندني رات ميں مہتاب کا ہم رنگ کنول
جلوہ طور ميں جيسے يد بيضائے کليم
موجہ نکہت گلزار ميں غنچے کي شميم
ہے ترے سيل محبت ميں يونہي دل ميرا
تو جو محفل ہے تو ہنگامہء محفل ہوں ميں
حسن کي برق ہے تو ، عشق کا حاصل ہوں ميں
تو سحر ہے تو مرے اشک ہيں شبنم تيري
شام غربت ہوں اگر ميں تو شفق تو ميري
مرے دل ميں تري زلفوں کي پريشاني ہے
تري تصوير سے پيدا مري حيراني ہے
حسن کامل ہے ترا ، عشق ہے کامل ميرا
ہے مرے باغ سخن کے ليے تو باد بہار
ميرے بے تاب تخيل کو ديا تو نے قرار
جب سے آباد ترا عشق ہوا سينے ميں
نئے جوہر ہوئے پيدا مرے آئينے ميں
حسن سے عشق کي فطرت کو ہے تحريک کمال
تجھ سے سر سبز ہوئے ميري اميدوں کے نہال
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا