ستارہ صبح کا روتا تھا اور يہ کہتا تھا
ملي نگاہ مگر فرصت نہ ملي
ہوئي ہے زندہ دم آفتاب سے ہر شے
اماں مجھي کو تہ دامن نہ ملي
بساط کيا ہے بھلا صبح کے ستارے کي
نفس حباب کا ، تابندگي شرارے کي
!کہا يہ ميں نے کہ اے زيور جبين سحر
غم فنا ہے تجھے! گنبد فلک سے اتر
ٹپک بلندي گردوں سے ہمرہ شبنم
مرے رياض سخن کي فضا ہے جاں پرور
ميں باغباں ہوں ، محبت بہار ہے اس کي
بنا مثال ابد پائدار ہے اس کي
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا