اوروں کا ہے پيام اور ، ميرا پيام اور ہے
عشق کے مند کا طرز کلام اور ہے
طائر زير دام کے نالے تو سن چکے ہو تم
يہ بھي سنو کہ نالہء طائر بام اور ہے
آتي تھي کوہ سے صدا راز حيات ہے سکوں
کہتا تھا مور ناتواں لطف خرام اور ہے
جذب حرم سے ہے فروغ انجمن حجاز کا
اس کا مقام اور ہے ، اس کا نظام اور ہے
ہے عيش جاوداں ، ذوق طلب اگر نہ ہو
گردش آدمي ہے اور ، گردش جام اور ہے
شمع سحر يہ کہہ گئي سوز ہے زندگي کا ساز
غم کدہء نمود ميں شرط دوام اور ہے
بادہ ہے نيم رس ابھي ، شوق ہے نارسا ابھي
رہنے دو خم کے سر پہ تم خشت کليسيا ابھي
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا