ہم بغل دريا سے ہے اے قطرہ بے تاب تو
پہلے گوہر تھا ، بنا اب گوہر ناياب تو
آہ کھولا کس ادا سے تو نے راز رنگ و بو
ميں ابھي تک ہوں اسير امتياز رنگ و بو
مٹ کے غوغا زندگي کا شورش محشر بنا
يہ شرارہ بجھ کے آتش خانہ آزر بنا
نفي ہستي اک کرشمہ ہے آگاہ کا
'لا' کے دريا ميں نہاں موتي ہے 'الااللہ' کا
چشم نابينا سے مخفي معني انجام ہے
تھم گئي جس دم تڑپ ، سيماب سيم خام ہے
توڑ ديتا ہے بت ہستي کو ابراہيم
ہوش کا دارو ہے گويا مستي تسنيم عشق
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا