خدا سے نے اک روز يہ سوال کيا
جہاں ميں کيوں نہ مجھے تو نے لازوال کيا
ملا جواب کہ تصوير خانہ ہے دنيا
دراز عدم کا فسانہ ہے دنيا
ہوئي ہے رنگ تغير سے جب نمود اس کي
وہي حسيں ہے حقيقت زوال ہے جس کي
کہيں قريب تھا ، يہ گفتگو قمر نے سني
فلک پہ عام ہوئي ، اختر سحر نے سني
سحر نے تارے سے سن کر سنائي شبنم کو
فلک کي بات بتا دي زميں کے محرم کو
بھر آئے پھول کے آنسو پيام شبنم سے
کلي کا ننھا سا دل خون ہو گيا غم سے
چمن سے روتا ہوا موسم بہار گيا
شباب سير کو آيا تھا ، سوگوار گيا
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا