عروس کي زلفيں تھيں ابھي نا آشنا خم سے
ستارے آسماں کے بے خبر تھے لذت رم سے
قمر اپنے لباس نو ميں بيگانہ سا لگتا تھا
نہ تھا واقف ابھي گردش کے آئين مسلم سے
ابھي امکاں کے ظلمت خانے سے ابھري ہي تھي دنيا
مذاق زندگي پوشيدہ تھا پہنائے عالم سے
کمال نظم ہستي کي ابھي تھي ابتدا گويا
ہويدا تھي نگينے کي تمنا چشم خاتم سے
سنا ہے عالم بالا ميں کوئي کيمياگر تھا
صفا تھي جس کي پا ميں بڑھ کر ساغر جم سے
لکھا تھا عرش کے پائے پہ اک اکسير کا نسخہ
چھپاتے تھے فرشتے جس کو چشم روح آدم سے
نگاہيں تاک ميں رہتي تھيں ليکن کيمياگر کي
وہ اس نسخے کو بڑھ کر جانتا تھا اسم اعظم سے
بڑھا تسبيح خواني کے بہانے عرش کي جانب
تمنائے دلي آخر بر آئي سعي پيہم سے
پھرايا فکر اجزا نے اسے ميدان امکاں ميں
چھپے گي کيا کوئي شے بارگاہ حق کے محرم سے
چمک تارے سے مانگي ، چاند سے داغ جگر مانگا
اڑائي تيرگي تھوڑي سي شب کي زلف برہم سے
تڑپ بجلي سے پائي ، حور سے پاکيزگي پائي
حرارت لي نفسہائے مسيح ابن مريم سے
ذرا سي پھر ربوبيت سے شان بے نيازي لي
ملک سے عاجزي ، افتادگي تقدير شبنم سے
پھر ان اجزا کو گھولا چشمہء حيواں کے پاني ميں
مرکب نے محبت نام پايا عرش اعظم سے
مہوس نے يہ پاني ہستي نوخيز پر چھڑکا
گرہ کھولي ہنر نے اس کے گويا کار عالم سے
ہوئي جنبش عياں ، ذروں نے لطف خواب کو چھوڑا
گلے ملنے لگے اٹھ اٹھ کے اپنے اپنے ہمدم سے
خرام ناز پايا آفتابوں نے ، ستاروں نے
چٹک غنچوں نے پائي ، داغ پائے لالہ زاروں نے
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا