کہوں کيا آرزوئے بے دلي مجھ کو کہاں تک ہے
مرے بازار کي رونق ہي سودائے زياں تک ہے
وہ مے کش ہوں فروغ مے سے خود گلزار بن جائوں
ہوائے فراق ساقي نامہرباں تک ہے
افروز ہے صياد ميري خوشنوائي تک
رہي بجلي کي بے تابي ، سو ميرے آشياں تک ہے
وہ مشت خاک ہوں ، فيض پريشاني سے صحرا ہوں
نہ پوچھو ميري وسعت کي ، زميں سے آ سماں تک ہے
جرس ہوں ، نالہ خوابيدہ ہے ميرے ہر رگ و پے ميں
يہ خاموشي مري وقت رحيل کارواں تک ہے
سکون دل سے سامان کشود کار پيدا کر
کہ عقدہ خاطر گرداب کا آب رواں تک ہے
!چمن زار محبت ميں خموشي موت ہے بلبل
يہاں کي زندگي پابندي رسم فغاں تک ہے
جواني ہے تو ذوق ديد بھي ، لطف تمنا بھي
ہمارے گھر کي آبادي قيام ميہماں تک ہے
!زمانے بھر ميں رسوا ہوں مگر اے وائے ناداني
سمجھتا ہوں کہ ميرا عشق ميرے رازداں تک ہے
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا