ظاہر کي آنکھ سے نہ تماشا کرے کوئي
ہو ديکھنا تو ديدہء وا کرے کوئي
منصور کو ہوا لب گويا پيام
اب کيا کسي کے عشق کا دعوي کرے کوئي
ہو ديد کا جو شوق تو آنکھوں کو بند کر
ہے ديکھنا يہي کہ نہ ديکھا کرے کوئي
ميں انتہائے عشق ہوں ، تو انتہائے حسن
ديکھے مجھے کہ تجھ کو تماشا کرے کوئي
عذر آفرين جرم محبت ہے حسن دوست
محشر ميں عذر تازہ نہ پيدا کرے کوئي
!چھپتي نہيں ہے يہ نگہ شوق ہم نشيں
پھر اور کس طرح انھيں ديکھا کر ے کوئي
اڑ بيٹھے کيا سمجھ کے بھلا طور پر کليم
طاقت ہو ديد کي تو تقاضا کرے کوئي
نظارے کو يہ جنبش مژگاں بھي بار ہے
نرگس کي آنکھ سے تجھے ديکھا کرے کوئي
کھل جائيں ، کيا مزے ہيں تمنائے شوق ميں
دو چار دن جو ميري تمنا کرے کوئي
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا