انوکھي وضع ہے ، سارے زمانے سے نرالے ہيں
يہ عاشق کون سي بستي کے يا رب رہنے والے ہيں
علاج ميں بھي درد کي لذت پہ مرتا ہوں
جو تھے چھالوں ميں کانٹے ، نوک سوزن سے نکالے ہيں
پھلا پھولا رہے يا رب! ميري اميدوں کا
جگر کا خون دے دے کر يہ بوٹے ميں نے پالے ہيں
رلاتي ہے مجھے راتوں کو خاموشي ستاروں کي
نرالا عشق ہے ميرا ، نرالے ميرے نالے ہيں
نہ پوچھو مجھ سے لذت خانماں برباد رہنے کي
نشيمن سينکڑوں ميں نے بنا کر پھونک ڈالے ہيں
نہيں بيگانگي اچھي رفيق راہ منزل سے
ٹھہر جا اے شرر ، ہم بھي تو آخر مٹنے والے ہيں
اميد حور نے سب کچھ سکھا رکھا ہے واعظ کو
يہ حضرت ديکھنے ميں سيدھے سادے ، بھولے بھالے ہيں
مرے اشعار اے اقبال کيوں پيارے نہ ہوں مجھ کو
مرے ٹوٹے ہوئے دل کے يہ درد انگيز نالے ہيں
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا