کيا کہوں اپنے سے ميں جدا کيونکر ہوا
اور اسير حلقہ دام ہوا کيونکر ہوا
جائے حيرت ہے برا سارے زمانے کا ہوں ميں
مجھ کو يہ خلعت شرافت کا عطا کيونکر ہوا
کچھ دکھانے ديکھنے کا تھا تقاضا طور پر
کيا خبر ہے تجھ کو اے فيصلا کيونکر ہوا
ہے طلب بے مدعا ہونے کي بھي اک مدعا
مرغ دل دام تمنا سے رہا کيونکر ہوا
ديکھنے والے يہاں بھي ديکھ ليتے ہيں تجھے
پھر يہ وعدہ حشر کا صبر آزما کيونکر ہوا
حسن کامل ہي نہ ہو اس بے حجابي کا سبب
وہ جو تھا پردوں ميں پنہاں ، خود نما کيونکر ہوا
!موت کا نسخہ ابھي باقي ہے اے درد فراق
چارہ گر ديوانہ ہے ، ميں لا دوا کيونکر ہوا
تو نے ديکھا ہے کبھي اے ديدہء عبرت کہ گل
ہو کے پيدا خاک سے رنگيں قبا کيونکر ہوا
پرسش اعمال سے مقصد تھا رسوائي مري
ورنہ ظاہر تھا سبھي کچھ ، کيا ہوا ، کيونکر ہوا
ميرے مٹنے کا تماشا ديکھنے کي چيز تھي
کيا بتائوں ان کا ميرا سامنا کيونکر ہوا
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا