لائوں وہ تنکے کہيں سے آشيانے کے ليے
بجلياں بے تاب ہوں جن کو جلانے کے ليے
وائے ناکامي ، فلک نے تاک کر توڑا اسے
ميں نے جس ڈالي کو تاڑا آشيانے کے ليے
آنکھ مل جاتي ہے ہفتاد و دو ملت سے تري
ايک پيمانہ ترا سارے زمانے کے ليے
ميں کوئي اس طرح کي آرزو پيدا کروں
لوٹ جائے آسماں ميرے مٹانے کے ليے
جمع کر خرمن تو پہلے دانہ دانہ چن کے تو
آ ہي نکلے گي کوئي بجلي جلانے کے ليے
پاس تھا ناکامي صياد کا اے ہم صفير
!ورنہ ميں ، اور اڑ کے آتا ايک دانے کے ليے
اس چمن ميں مرغ گائے نہ آزادي کا گيت
آہ يہ گلشن نہيں ايسے ترانے کے ليے
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا