فرشتے پڑھتے ہيں جس کو وہ نام ہے تيرا
بڑي جناب تري، فيض عام ہے تيرا
ستارے کے تيري کشش سے ہيں قائم
نظام مہر کي صورت نظام ہے تيرا
تري لحد کي زيارت ہے زندگي کي
مسيح و خضر سے اونچا مقام ہے تيرا
نہاں ہے تيري محبت ميں رنگ محبوبي
بڑي ہے شان، بڑا احترام ہے تيرا
اگر سياہ دلم، داغ لالہ زار تو ام
و گر کشادہ جبينم، گل بہار تو ام
چمن کو چھوڑ کے نکلا ہوں مثل نکہت گل
ہوا ہے صبر کا منظور امتحاں مجھ کو
چلي ہے لے کے وطن کے نگار خانے سے
شراب علم کي لذت کشاں کشاں مجھ کو
نظر ہے ابر کرم پر ، درخت صحرا ہوں
کيا خدا نے نہ محتاج باغباں مجھ کو
فلک نشيں صفت مہر ہوں زمانے ميں
تري دعا سے عطا ہو وہ نردباں مجھ کو
مقام ہم سفروں سے ہوا اس قدر آگے
کہ سمجھے منزل مقصود کارواں مجھ کو
مري زبان قلم سے کسي کا دل نہ دکھے
کسي سے شکوہ نہ ہو زير آسماں مجھ کو
دلوں کو چاک کرے مثل شانہ جس کا اثر
تري جناب سے ايسي ملے فغاں مجھ کو
بنايا تھا جسے چن چن کے خار و خس ميں نے
چمن ميں پھر نظر آئے وہ آشياں مجھ کو
پھر آ رکھوں قدم مادر و پدر پہ جبيں
کيا جنھوں نے محبت کا رازداں مجھ کو
وہ شمع بارگہ خاندان مرتضوي
رہے گا مثل حرم جس کا آستاں مجھ کو
نفس سے جس کے کھلي ميري آرزو کي کلي
بنايا جس کي مروت نے نکتہ داں مجھ کو
دعا يہ کر کہ خداوند آسمان و زميں
کرے پھر اس کي زيارت سے شادماں مجھ کو
وہ ميرا يوسف ثاني وہ شمع محفل عشق
ہوئي ہے جس کي اخوت قرار جاں مجھ کو
جلا کے جس کي محبت نے دفتر من و تو
ہوائے عيش ميں پالا، کيا جواں مجھ کو
رياض دہر ميں مانند گل رہے خنداں
کہ ہے عزيز تر از جاں وہ جان جاں مجھ کو
!شگفتہ ہو کے کلي دل کي پھول ہو جائے
!يہ التجائے مسافر قبول ہو جائے
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا