!کيسي حيراني ہے يہ اے طفلک خو
شمع کے شعلوں کو گھڑيوں ديکھتا رہتا ہے تو
يہ مري آغوش ميں بيٹھے ہوئے جنبش ہے کيا
روشني سے کيا بغل گيري ہے تيرا مدعا؟
اس نظارے سے ترا ننھا سا حيران ہے
يہ کسي ديکھي ہوئي شے کي مگر پہچان ہے
شمع اک شعلہ ہے ليکن تو سراپا نور ہے
آہ! اس محفل ميں يہ عرياں ہے تو مستور ہے
!دست قدرت نے اسے کيا جانے کيوں عرياں کيا
تجھ کو خاک تيرہ کے فانوس ميں پنہاں کيا
نور تيرا چھپ گيا زير نقاب آگہي
ہے غبار ديدہء بينا حجاب آگہي
زندگاني جس کو کہتے ہيں فراموشي ہے يہ
خواب ہے، غفلت ہے، سرمستي ہے، بے ہوشي ہے يہ
محفل قدرت ہے اک دريائے بے پايان حسن
آنکھ اگر ديکھے تو ہر قطرے ميں ہے طوفان حسن
حسن ، کوہستاں کي ہيبت ناک خاموشي ميں ہے
مہر کي ضوگستري، شب کي سيہ پوشي ميں ہے
آسمان صبح کي آئينہ پوشي ميں ہے يہ
شام کي ظلمت، شفق کي گل فرو شي ميں ہے يہ
عظمت ديرينہ کے مٹتے ہوئے آثار ميں
طفلک ناآشنا کي کوشش گفتار ميں
ساکنان صحن گلشن کي ہم آوازي ميں ہے
ننھے ننھے طائروں کي آشياں سازي ميں ہے
چشمہ کہسار ميں ، دريا کي آزادي ميں حسن
شہر ميں، صحرا ميں، ويرانے ميں، آبادي ميں حسن
روح کو ليکن کسي گم گشتہ شے کي ہے ہوس
!ورنہ اس صحرا ميں کيوں نالاں ہے يہ مثل جرس
حسن کے اس عام جلوے ميں بھي يہ بے تاب ہے
زندگي اس کي مثال ماہي بے آب ہے
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا