سر شام ايک مرغ نغمہ پيرا
کسي ٹہني پہ بيٹھا گا رہا تھا
چمکتي چيز اک ديکھي زميں پر
اڑا طائر اسے جگنو سمجھ کر
!کہا جگنو نے او مرغ نواريز
نہ کر بے کس پہ منقار ہوس تيز
تجھے جس نے چہک ، کو مہک دي
اسي اللہ نے مجھ کو چمک دي
لباس ميں مستور ہوں ميں
پتنگوں کے جہاں کا طور ہوں ميں
چہک تيري بہشت گوش اگر ہے
چمک ميري بھي فردوس نظر ہے
پروں کو ميرے قدرت نے ضيا دي
تجھے اس نے صدائے دل ربا دي
تري منقار کو گانا سکھايا
مجھے گلزار کي مشعل بنايا
چمک بخشي مجھے، آواز تجھ کو
ديا ہے سوز مجھ کو، ساز تجھ کو
مخالف ساز کا ہوتا نہيں سوز
جہاں ميں ساز کا ہے ہم نشيں سوز
قيام بزم ہستي ہے انھي سے
ظہور اوج و پستي ہے انھي سے
ہم آہنگي سے ہے محفل جہاں کي
اسي سے ہے بہار اس بوستاں کي
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا