سچ کہہ دوں اے برہمن! گر تو برا نہ مانے
تيرے صنم کدوں کے بت ہو گئے پرانے
اپنوں سے بير رکھنا تو نے بتوں سے سيکھا
جنگ و جدل سکھايا واعظ کو بھي نے
تنگ آ کے ميں نے آخر دير و حرم کو چھوڑا
واعظ کا وعظ چھوڑا، چھوڑے ترے فسانے
پتھر کي مورتوں ميں سمجھا ہے تو ہے
خاک وطن کا مجھ کو ہر ذرہ ديوتا ہے
آ ، غيريت کے پردے اک بار پھر اٹھا ديں
بچھڑوں کو پھر ملا ديں نقش دوئي مٹا ديں
سوني پڑي ہوئي ہے مدت سے دل کي بستي
آ ، اک نيا شوالا اس ديس ميں بنا ديں
دنيا کے تيرتھوں سے اونچا ہو اپنا تيرتھ
دامان آسماں سے اس کا کلس ملا ديں
ہر صبح اٹھ کے گائيں منتر وہ مٹيھے مٹيھے
سارے پجاريوں کو مے پيت کي پلا ديں
شکتي بھي شانتي بھي بھگتوں کے گيت ميں ہے
دھرتي کے باسيوں کي مکتي پريت ميں ہے
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا