چشتي نے جس زميں ميں پيغام حق سنايا
نانک نے جس ميں وحدت کا گيت گايا
تاتاريوں نے جس کو اپنا وطن بنايا
جس نے حجازيوں سے دشت عرب چھڑايا
ميرا وطن وہي ہے ، ميرا وطن وہي ہے
يونانيوں کو جس نے حيران کر ديا تھا
سارے جہاں کو جس نے علم و ديا تھا
مٹي کو جس کي حق نے زر کا اثر ديا تھا
ترکوں کا جس نے دامن ہيروں سے بھر ديا تھا
ميرا وطن وہي ہے، ميرا وطن وہي ہے
ٹوٹے تھے جو ستارے فارس کے آسماں سے
پھر تاب دے کے جس نے چمکائے کہکشاں سے
وحدت کي لے سني تھي دنيا نے جس مکاں سے
مير عرب کو آئي ٹھنڈي ہوا جہاں سے
ميرا وطن وہي ہے، ميرا وطن وہي ہے
بندے کليم جس کے ، پربت جہاں کے سينا
نوح نبي کا آ کر ٹھہرا جہاں سفينا
رفعت ہے جس زميں کي بام فلک کا زينا
جنت کي زندگي ہے جس کي فضا ميں جينا
ميرا وطن وہي ہے، ميرا وطن وہي ہے
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا