چمک اٹھا جو ستارہ ترے مقدر کا
حبش سے تجھ کو اٹھا کر حجاز ميں لايا
ہوئي اسي سے ترے کدے کي آبادي
تري غلامي کے صدقے ہزار آزادي
وہ آستاں نہ چھٹا تجھ سے ايک دم کے ليے
کسي کے شوق ميں تو نے مزے ستم کے ليے
جفا جو ميں ہوتي ہے وہ جفا ہي نہيں
ستم نہ ہو تو محبت ميں کچھ مزا ہي نہيں
نظر تھي صورت سلماں ادا شناس تري
شراب ديد سے بڑھتي تھي اور پياس تري
تجھے نظارے کا مثل کليم سودا تھا
اويس طاقت ديدار کو ترستا تھا
مدينہ تيري نگاہوں کا نور تھا گويا
ترے ليے تو يہ صحرا ہي طور تھا گويا
تري نظر کو رہي ديد ميں بھي حسرت ديد
خنک دلے کہ تپيد و دمے نيا سائيد
گري وہ برق تري جان ناشکيبا پر
کہ خندہ زن تري ظلمت تھي دست موسي پر
تپش ز شعلہ گر فتند و بر دل تو زدند
چہ برق جلوہ بخاشاک حاصل تو زدند
ادائے ديد سراپا نياز تھي تيري
کسي کو ديکھتے رہنا نماز تھي تيري
اذاں ازل سے ترے عشق کا ترانہ بني
نماز اس کے نظارے کا اک بہانہ بني
خوشا وہ وقت کہ يثرب مقام تھا اس کا
خوشا وہ دور کہ ديدار عام تھا اس کا
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا