ميرے ويرانے سے کوسوں دور ہے تيرا وطن
ہے مگر دريائے تيري کشش سے موجزن
قصد کس محفل کا ہے؟ آتا ہے کس محفل سے تو؟
زرد رو شايد ہوا رنج رہ سے تو
آفرنيش ميں سراپا نور ، ظلمت ہوں ميں
اس سيہ روزي پہ ليکن تيرا ہم قسمت ہوں ميں
آہ ، ميں جلتا ہوں سوز اشتياق ديد سے
تو سراپا سوز داغ منت خورشيد سے
ايک حلقے پر اگر قائم تري رفتار ہے
ميري گردش بھي مثال گردش پرکار ہے
زندگي کي رہ ميں سرگرداں ہے تو، حيراں ہوں ميں
تو فروزاں محفل ہستي ميں ہے ، سوزاں ہوں ميں
ميں رہ منزل ميں ہوں، تو بھي رہ منزل ميں ہے
تيري محفل ميں جو خاموشي ہے ، ميرے دل ميں ہے
تو طلب خو ہے تو ميرا بھي يہي دستور ہے
چاندني ہے نور تيرا، عشق ميرا نور ہے
انجمن ہے ايک ميري بھي جہاں رہتا ہوں ميں
بزم ميں اپني اگر يکتا ہے تو، تنہا ہوں ميں
مہر کا پرتو ترے حق ميں ہے پيغام اجل
محو کر ديتا ہے مجھ کو جلوئہ حسن ازل
پھر بھي اے ماہ مبيں! ميں اور ہوں تو اور ہے
درد جس پہلو ميں اٹھتا ہو وہ پہلو اور ہے
گرچہ ميں ظلمت سراپا ہوں، سراپا نور تو
سينکڑوں منزل ہے ذوق آگہي سے دور تو
جو مري ہستي کا مقصد ہے ، مجھے معلوم ہے
يہ چمک وہ ہے، جبيں جس سے تري محروم ہے
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا