جا بسا مغرب ميں آخر اے مکاں تيرا مکيں
آہ! مشرق کي پسند آئي نہ اس کو سر زميں
آ گيا آج اس صداقت کا مرے کو يقيں
ظلمت سے ضيائے روز فرقت کم نہيں
تا ز آغوش وداعش داغ حيرت چيدہ است ''
''ہمچو شمع کشتہ در چشم نگہ خوابيدہ است
کشتہ عزلت ہوں، آبادي ميں گھبراتا ہوں ميں
شہر سے سودا کي شدت ميں نکل جاتا ہوں ميں
ياد ايام سلف سے دل کو تڑپاتا ہوں ميں
بہر تسکيں تيري جانب دوڑتا آتا ہوں ميں
آنکھ گو مانوس ہے تيرے در و ديوار سے
اجنبيت ہے مگر پيدا مري رفتار سے
ذرہ ميرے دل کا خورشيد آشنا ہونے کو تھا
آئنہ ٹوٹا ہوا عالم نما ہونے کو تھا
نخل ميري آرزوئوں کا ہرا ہونے کو تھا
آہ! کيا جانے کوئي ميں کيا سے کيا ہونے کو تھا
ابر رحمت دامن از گلزار من برچيد و رفت
اند کے بر غنچہ ہائے آرزو باريد و رفت
تو کہاں ہے اے کليم ذروئہ سينائے علم
تھي تري موج نفس باد نشاط افزائے علم
اب کہاں وہ شوق رہ پيمائي صحرائے علم
تيرے دم سے تھا ہمارے سر ميں بھي سودائے علم
شور ليلي کو کہ باز آرايش سودا کند ''
''خاک مجنوں را غبار خاطر صحرا کند
کھول دے گا دشت وحشت عقدئہ تقدير کو
توڑ کر پہنچوں گا ميں پنجاب کي زنجير کو
ديکھتا ہے ديدئہ حيراں تري تصوير کو
کيا تسلي ہو مگر گرويدہء تقرير کو
تاب گويائي نہيں رکھتا دہن تصوير کا ''
''خامشي کہتے ہيں جس کو، ہے سخن تصوير کا
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا