ميں نے چاقو تجھ سے چھينا ہے تو چلاتا ہے تو
مہرباں ہوں ميں ، مجھے نا مہرباں سمجھا ہے تو
پھر پڑا روئے گا اے نووارد اقليم
چبھ نہ جائے ديکھنا! ، باريک ہے نوک قلم
آہ! کيوں دکھ دينے والي شے سے تجھ کو پيار ہے
کھيل اس کاغذ کے ٹکڑے سے ، يہ بے آزار ہے
گيند ہے تيري کہاں ، چيني کي بلي ہے کد ھر؟
وہ ذرا سا جانور ٹوٹا ہوا ہے جس کا سر
تيرا آئينہ تھا آزاد آرزو
آنکھ کھلتے ہي چمک اٹھا شرار آرزو
ہاتھ کي جنبش ميں ، طرز ديد ميں پوشيدہ ہے
تيري صورت آرزو بھي تيري نوزائيدہ ہے
زندگاني ہے تري آزاد قيد امتياز
تيري آنکھوں پر ہويدا ہے مگر قدرت کا راز
جب کسي شے پر بگڑ کر مجھ سے ، چلاتا ہے تو
کيا تماشا ہے ردي کاغذ سے من جاتا ہے تو
آہ! اس عادت ميں ہم آہنگ ہوں ميں بھي ترا
تو تلون آشنا ، ميں بھي تلون آشنا
عارضي لذت کا شيدائي ہوں ، چلاتا ہوں ميں
جلد آ جاتا ہے غصہ ، جلد من جاتا ہوں ميں
ميري آنکھوں کو لبھا ليتا ہے حسن ظاہري
کم نہيں کچھ تيري ناداني سے ناداني مري
تيري صورت گاہ گرياں گاہ خنداں ميں بھي ہوں
ديکھنے کو نوجواں ہوں ، طفل ناداں ميں بھي ہوں
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا