مضطرب رکھتا ہے ميرا بے تاب مجھے
عين ہستي ہے تڑپ صورت سيماب مجھے
موج ہے نام مرا ، بحر ہے پاياب مجھے
ہو نہ زنجير کبھي حلقہء گرداب مجھے
آب ميں مثل ہوا جاتا ہے توسن ميرا
خار ماہي سے نہ اٹکا کبھي دامن ميرا
ميں اچھلتي ہوں کبھي جذب مہ کامل سے
جوش ميں سر کو پٹکتي ہوں کبھي ساحل سے
ہوں وہ رہرو کہ محبت ہے مجھے سے
کيوں تڑپتي ہوں ، يہ پوچھے کوئي ميرے دل سے
زحمت تنگي دريا سے گريزاں ہوں ميں
وسعت بحر کي فرقت ميں پريشاں ہوں ميں
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا