قصہ دار و رسن بازي طفلانہ
التجائے 'ارني' سرخي افسانہء
يا رب اس ساغر لبريز کي مے کيا ہو گي
جاوہ ملک بقا ہے خط پيمانہ دل
!ابر رحمت تھا کہ تھي عشق کي بجلي يا رب
جل گئي مزرع ہستي تو اگا دانہء دل
حسن کا گنج گراں مايہ تجھے مل جاتا
!تو نے فرہاد! نہ کھودا کبھي ويرانہ دل
عرش کا ہے کبھي کعبے کا ہے دھوکا اس پر
کس کي منزل ہے الہي! مرا کاشانہ دل
اس کو اپنا ہے جنوں اور مجھے سودا اپنا
دل کسي اور کا ديوانہ ، ميں ديوانہء دل
تو سمجھتا نہيں اے زاہد ناداں اس کو
رشک صد سجدہ ہے اک لغزش مستانہء دل
خاک کے ڈھير کو اکسير بنا ديتي ہے
وہ اثر رکھتي ہے خاکستر پروانہ دل
عشق کے دام ميں پھنس کر يہ رہا ہوتا ہے
برق گرتي ہے تو يہ نخل ہرا ہوتا ہے
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا