اجالا جب ہوا رخصت جبين کي افشاں کا
نسيم زندگي پيغام لائي صبح خنداں کا
جگايا رنگيں نوا کو آشيانے ميں
کنارے کھيت کے شانہ ہلايا اس نے دہقاں کا
طلسم ظلمت شب سورہء والنور سے توڑا
اندھيرے ميں اڑايا تاج زر شمع شبستاں کا
پڑھا خوابيدگان دير پر افسون بيداري
برہمن کو ديا پيغام خورشيد درخشاں کا
ہوئي بام حرم پر آ کے يوں گويا مؤذن سے
نہيں کھٹکا ترے دل ميں نمود مہر تاباں کا؟
پکاري اس طرح ديوار گلشن پر کھڑے ہو کر
چٹک او غنچہ گل! تو مؤذن ہے گلستاں کا
!ديا يہ حکم صحرا ميں چلو اے قافلے والو
چمکنے کو ہے جگنو بن کے ہر ذرہ بياباں کا
سوئے گور غريباں جب گئي زندوں کي بستي سے
تو يوں بولي نظارا ديکھ کر شہر خموشاں کا
ابھي آرام سے ليٹے رہو ، ميں پھر بھي آئوں گي
سلادوں گي جہاں کو خواب سے تم کو جگائوں گي
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا