ٹوٹ کر خورشيد کي کشتي ہوئي غرقاب نيل
ايک ٹکڑا تيرتا پھرتا ہے روئے آب نيل
طشت گردوں ميں ٹپکتا ہے شفق کا خون ناب
نشتر قدرت نے کيا کھولي ہے فصد آفتاب
چرخ نے بالي چرا لي ہے عروس شام کي
نيل کے پاني ميں يا مچھلي ہے سيم خام کي
قافلہ تيرا رواں بے منت بانگ درا
گوش انساں سن نہيں سکتا تري آواز پا
گھٹنے بڑھنے کا سماں آنکھوں کو دکھلاتا ہے تو
ہے وطن تيرا ، کس ديس کو جاتا ہے تو
ساتھ اے سيارہء ثابت نما لے چل مجھے
خار حسرت کي خلش رکھتي ہے اب بے کل مجھے
کا طالب ہوں ، گھبراتا ہوں اس بستي ميں ميں
طفلک سيماب پا ہوں مکتب ہستي ميں ميں
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا