کس زباں سے اے پژمردہ تجھ کو گل کہوں
کس طرح تجھ کو تمنائے بلبل کہوں
تھي کبھي موج صبا گہوارہء جنباں ترا
نام تھا صحن گلستاں ميں گل خنداں ترا
تيرے احساں کا نسيم صبح کو اقرار تھا
باغ تيرے دم سے گويا طبلہء عطار تھا
تجھ پہ برساتا ہے شبنم ديدہء گرياں مرا
ہے نہاں تيري اداسي ميں دل ويراں مرا
ميري بربادي کي ہے چھوٹي سي اک تصوير تو
خوا ب ميري زندگي تھي جس کي ہے تعبير تو
ہمچو نے از نيستان خود حکايت مي کنم
بشنو اے گل! از جدائي ہا شکايت مي کنم
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا