اے عشق! ہے گہر آب دار تو
نامحرموں ميں ديکھ نہ ہو آشکار تو
پنہاں تہ نقاب تري جلوہ گاہ ہے
ظاہر پرست محفل نو کي ہے
آئي نئي ہوا چمن ہست و بود ميں
اے درد عشق! اب نہيں لذت نمود ميں
ہاں خود نمائيوں کي تجھے جستجو نہ ہو
!منت پذير نالہء بلبل کا تو نہ ہو
خالي شراب عشق سے لالے کا جام ہو
پاني کي بوند گريہء شبنم کا نام ہو
پنہاں درون سينہ کہيں راز ہو ترا
اشک جگر گداز نہ غماز ہو ترا
گويا زبان شاعر رنگيں بياں نہ ہو
آواز نے ميں شکوہ فرقت نہاں نہ ہو
يہ دور نکتہ چيں ہے ، کہيں چھپ کے بيٹھ رہ
جس دل ميں تو مکيں ہے، وہيں چھپ کے بيٹھ رہ
!غافل ہے تجھ سے حيرت علم آفريدہ ديکھ
جويا نہيں تري نگہ نارسيدہ ديکھ
رہنے دے جستجو ميں خيال بلند کو
حيرت ميں چھوڑ ديدہء حکمت پسند کو
جس کي بہار تو ہو يہ ايسا چمن نہيں
قابل تري نمود کے يہ انجمن نہيں
يہ انجمن ہے کشتہء نظارہء مجاز
مقصد تري نگاہ کا خلوت سرائے راز
ہر دل مے خيال کي مستي سے چور ہے
کچھ اور آجکل کے کليموں کا طور ہے
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا