اے آفتاب! روح و روان جہاں ہے تو
شيرازہ بند دفتر کون و مکاں ہے تو
باعث ہے تو وجود و عدم کي نمود کا
ہے سبز تيرے دم سے ہست و بود کا
قائم يہ عنصروں کا تماشا تجھي سے ہے
ہر شے ميں زندگي کا تقاضا تجھي سے ہے ہر
شے کو تيري جلوہ گري سے ثبات ہے
تيرا يہ سوز و ساز سراپا حيات ہے
وہ آفتاب جس سے زمانے ميں ہے
دل ہے ، خرد ہے ، روح رواں ہے ، شعور ہے
اے آفتاب ، ہم کو ضيائے شعور دے
چشم خرد کو اپني تجلي سے نور دے
ہے محفل وجود کا ساماں طراز تو
يزدان ساکنان نشيب و فراز تو
تيرا کمال ہستي ہر جاندار ميں
تيري نمود سلسلہ کوہسار ميں
ہر چيز کي حيات کا پروردگار تو
زائيدگان نور کا ہے تاجدار تو
نے ابتدا کوئي نہ کوئي انتہا تري
آزاد قيد اول و آخر ضيا تري
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا