جل رہا ہوں کل نہيں پڑتي کسي پہلو مجھے
ہاں ڈبو دے اے محيط آب گنگا تو مجھے
سرزميں اپني قيامت کي نفاق انگيز ہے
وصل کيسا ، ياں تو اک قرب فراق انگيز ہے
بدلے يک رنگي کے يہ نا آشنائي ہے غضب
ايک ہي خرمن کے دانوں ميں جدائي ہے غضب
جس کے پھولوں ميں اخوت کي ہوا آئي نہيں
اس ميں کوئي لطف نغمہ پيرائي نہيں
لذت قرب حقيقي پر مٹا جاتا ہوں ميں
اختلاط موجہ و ساحل سے گھبراتا ہوں ميں
دانہ خرمن نما ہے شاعر معجز بياں
ہو نہ خرمن ہي تو اس دانے کي ہستي پھر کہاں
ہو کيا خود نما جب کوئي مائل ہي نہ ہو
شمع کو جلنے سے کيا مطلب جو محفل ہي نہ ہو
ذوق گويائي خموشي سے بدلتا کيوں نہيں
ميرے آئينے سے يہ جوہر نکلتا کيوں نہيں
!کب زباں کھولي ہماري لذت گفتار نے
پھونک ڈالا جب چمن کو آتش پيکار نے
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا