تجھ سے کرتا ہے اے شمع پيار کيوں
يہ جان بے قرار ہے تجھ پر نثار کيوں
سيماب وار رکھتي ہے تيري ادا اسے
آداب تو نے سکھائے ہيں کيا اسے؟
کرتا ہے يہ طواف تري جلوہ گاہ کا
پھونکا ہوا ہے کيا تري برق نگاہ کا؟
آزار موت ميں اسے آرام جاں ہے کيا؟
شعلے ميں تيرے زندگي جاوداں ہے کيا؟
غم خانہ جہاں ميں جو تيري ضيا نہ ہو
اس تفتہ دل کا نخل تمنا ہرا نہ ہو
گرنا ترے حضور ميں اس کي نماز ہے
ننھے سے دل ميں لذت سوز و گداز ہے
کچھ اس ميں جوش عاشق حسن قديم ہے
چھوٹا سا طور تو يہ ذرا سا کليم ہے
پروانہ ، اور ذوق تماشائے روشني
!کيڑا ذرا سا ، اور تمنائے روشني
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا