آتا ہے ياد مجھ کو گزرا ہوا زمانا
وہ باغ کي بہاريں وہ سب کا چہچہانا
آزادياں کہاں وہ اب اپنے گھونسلے کي
اپني خوشي سے آنا اپني خوشي سے جانا
لگتي ہے چوٹ پر ، آتا ہے ياد جس دم
شبنم کے آنسوئوں پر کليوں کا مسکرانا
وہ پياري پياري صورت ، وہ کامني سي مورت
آباد جس کے دم سے تھا ميرا آشيانا
آتي نہيں صدائيں اس کي مرے قفس ميں
!ہوتي مري رہائي اے کاش ميرے بس ميں
کيا بد نصيب ہوں ميں گھر کو ترس رہا ہوں
ساتھي تو ہيں وطن ميں ، ميں قيد ميں پڑا ہوں
آئي کلياں پھولوں کي ہنس رہي ہيں
ميں اس اندھيرے گھر ميں قسمت کو رو رہا ہوں
اس قيد کا الہي! دکھڑا کسے سنائوں
ڈر ہے يہيں قفسں ميں ميں غم سے مر نہ جائوں
جب سے چمن چھٹا ہے ، يہ حال ہو گيا ہے
دل غم کو کھا رہا ہے ، غم دل کو کھا رہا ہے
گانا اسے سمجھ کر خوش ہوں نہ سننے والے
دکھے ہوئے دلوں کي فرياد يہ صدا ہے
!آزاد مجھ کو کر دے ، او قيد کرنے والے
ميں بے زباں ہوں قيدي ، تو چھوڑ کر دعا لے
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا