ٹہني پہ کسي شجر کي تنہا
تھا کوئي اداس بيٹھا
کہتا تھا کہ سر پہ آئي
اڑنے چگنے ميں دن گزارا
پہنچوں کس طرح آشياں تک
ہر چيز پہ چھا گيا اندھيرا
سن کر بلبل کي آہ و زاري
جگنو کوئي پاس ہي سے بولا
حاضر ہوں مدد کو جان و دل سے
کيڑا ہوں اگرچہ ميں ذرا سا
کيا غم ہے جو رات ہے اندھيري
ميں راہ ميں روشني کروں گا
اللہ نے دي ہے مجھ کو مشعل
چمکا کے مجھے ديا بنايا
ہيں لوگ وہي جہاں ميں اچھے
آتے ہيں جو کام دوسرں کے
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا