کوئي پہاڑ يہ کہتا تھا اک گلہري سے
تجھے ہو شرم تو پاني ميں جا کے ڈوب مرے
ذرا سي چيز ہے ، اس پر غرور ، کيا کہنا
!يہ عقل اور يہ سمجھ ، يہ شعور ، کيا کہنا
کي شان ہے ناچيز چيز بن بيٹھيں
جو بے شعور ہوں يوں باتميز بن بيٹھيں
تري بساط ہے کيا ميري شان کے آگے
زميں ہے پست مري آن بان کے آگے
جو بات مجھ ميں ہے ، تجھ کو وہ ہے نصيب کہاں
!بھلا پہاڑ کہاں جانور غريب کہاں
کہا يہ سن کے گلہري نے ، منہ سنبھال ذرا
يہ کچي باتيں ہيں سے انھيں نکال ذرا
جو ميں بڑي نہيں تيري طرح تو کيا پروا
نہيں ہے تو بھي تو آخر مري طرح چھوٹا
ہر ايک چيز سے پيدا خدا کي قدرت ہے
کوئي بڑا ، کوئي چھوٹا ، يہ اس کي حکمت ہے
بڑا جہان ميں تجھ کو بنا ديا اس نے
مجھے درخت پہ چڑھنا سکھا ديا اس نے
قدم اٹھانے کي طاقت نہيں ذرا تجھ ميں
نري بڑائي ہے ، خوبي ہے اور کيا تجھ ميں
جو تو بڑا ہے تو مجھ سا ہنر دکھا مجھ کو
يہ چھاليا ہي ذرا توڑ کر دکھا مجھ کو
نہيں ہے چيز نکمي کوئي زمانے ميں
کوئي برا نہيں قدرت کے کارخانے ميں
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا