ہے بلندي سے فلک بوس نشيمن ميرا
ابر کہسار ہوں پاش ہے دامن ميرا
کبھي صحرا ، کبھي گلزار ہے مسکن ميرا
شہر و ويرانہ مرا ، بحر مرا ، بن ميرا
کسي وادي ميں جو منظور ہو سونا مجھ کو
سبزہ کوہ ہے مخمل کا بچھونا مجھ کو
مجھ کو قدرت نے سکھايا ہے درافشاں ہونا
ناقہ شاہد رحمت کا حدي خواں ہونا
زدائے دل افسردہ دہقاں ہونا
رونق بزم جوانان گلستاں ہونا
بن کے گيسو رخ ہستي پہ بکھر جاتا ہوں
شانہ موجہ صرصر سے سنور جاتا ہوں
دور سے ديدہ اميد کو ترساتا ہوں
کسي بستي سے جو خاموش گزر جاتا ہوں
سير کرتا ہوا جس دم لب جو آتا ہوں
بالياں نہر کو گرداب کي پہناتا ہوں
سبزہ مزرع نوخيز کي اميد ہوں ميں
زادہ بحر ہوں پروردہ خورشيد ہوں ميں
چشمہ کوہ کو دي شورش قلزم ميں نے
اور پرندوں کو کيا محو ترنم ميں نے
سر پہ سبزے کے کھڑے ہو کے کہا قم ميں نے
غنچہ گل کو ديا ذوق تبسم ميں نے
فيض سے ميرے نمونے ہيں شبستانوں کے
جھونپڑے دامن کہسار ميں دہقانوں کے
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا