فکر انساں پر تري ہستي سے يہ روشن ہوا
ہے پر مرغ تخيل کي رسائي تا کجا
تھا سراپا روح تو ، بزم پيکر ترا
زيب محفل بھي رہا محفل سے پنہاں بھي رہا
ديد تيري آنکھ کو اس کي منظور ہے
بن کے سوز زندگي ہر شے ميں جو مستور ہے
محفل ہستي تري بربط سے ہے سرمايہ دار
جس طرح ندي کے نغموں سے سکوت کوہسار
تيرے فردوس تخيل سے ہے قدرت کي بہار
تيري کشت فکر سے اگتے ہيں عالم سبزہ وار
زندگي مضمر ہے تيري شوخي تحرير ميں
تاب گويائي سے جنبش ہے لب تصوير ميں
نطق کو سو ناز ہيں تيرے لب اعجاز پر
محو حيرت ہے ثريا رفعت پرواز پر
شاہد مضموں تصدق ہے ترے انداز پر
خندہ زن ہے غنچہ دلي گل شيراز پر
آہ! تو اجڑي ہوئي دلي ميں آراميدہ ہے
گلشن ويمر ميں تيرا ہم نوا خوابيدہ ہے
لطف گويائي ميں تيري ہمسري ممکن نہيں
ہو تخيل کا نہ جب تک فکر کامل ہم نشيں
ہائے! اب کيا ہو گئي ہندوستاں کي سر زميں
آہ! اے نظارہ آموز نگاہ نکتہ بيں
گيسوئے اردو ابھي منت پذير شانہ ہے
شمع يہ سودائي دل سوزي پروانہ ہے
اے جہان آباد ، اے گہوارہ علم و ہنر
ہيں سراپا نالہ خاموش تيرے بام و در
ذرے ذرے ميں ترے خوابيدہ ہيں شمں و قمر
يوں تو پوشيدہ ہيں تيري خاک ميں لاکھوں گہر
دفن تجھ ميں کوئي فخر روزگار ايسا بھي ہے؟
تجھ ميں پنہاں کوئي موتي آبدار ايسا بھي ہے؟
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا