تھے ديار نو زمين و آسماں ميرے ليے
وسعت آغوش مادر اک جہاں ميرے ليے
تھي ہر اک جنبش نشان لطف جاں ميرے ليے
حرف بے مطلب تھي خود ميري زباں ميرے ليے
، طفلي ميں اگر کوئي رلاتا تھا مجھے
شورش زنجير در ميں لطف آتا تھا مجھے
تکتے رہنا ہائے! وہ پہروں تلک سوئے قمر
وہ پھٹے بادل ميں بے آواز پا اس کا
پوچھنا رہ رہ کے اس کے کوہ و صحرا کي خبر
اور وہ حيرت دروغ مصلحت آميز پر
آنکھ وقف ديد تھي ، لب مائل گفتار تھا
دل نہ تھا ميرا ، سراپا ذوق استفسار تھا
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا