تو شناسائے خراش عقدئہ مشکل نہيں
اے گل رنگيں ترے پہلو ميں شايد نہيں
زيب محفل ہے ، شريک شورش محفل نہيں
يہ فراغت بزم ہستي ميں مجھے حاصل نہيں
اس ميں ميں سراپا سوز و ساز آرزو
اور تيري زندگاني بے گداز آرزو
توڑ لينا شاخ سے تجھ کو مرا آئيں نہيں
يہ نظر غير از نگاہ چشم صورت بيں نہيں
آہ! يہ دست جفاجو اے گل رنگيں نہيں
کس طرح تجھ کو يہ سمجھائوں کہ ميں گلچيں نہيں
کام مجھ کو ديدئہ حکمت کے الجھيڑوں سے کيا
ديدئہ بلبل سے ميں کرتا ہوں نظارہ ترا
سو زبانوں پر بھي خاموشي تجھے منظور ہے
راز وہ کيا ہے ترے سينے ميں جو مستور ہے
ميري صورت تو بھي اک برگ رياض طور ہے
ميں چمن سے دور ہوں تو بھي چمن سے دور ہے
مطمئن ہے تو ، پريشاں مثل بو رہتا ہوں ميں
زخمي شمشير ذوق جستجو رہتا ہوں ميں
يہ پريشاني مري سامان جمعيت نہ ہو
يہ جگر سوزي چراغ خانہ حکمت نہ ہو
ناتواني ہي مري سرمايہ قوت نہ ہو
رشک جام جم مرا آ ينہ حيرت نہ ہو
يہ تلاش متصل شمع جہاں افروز ہے
توسن ادراک انساں کو خرام آموز ہے
Responses
No comments yet. Be the first to respond.
جو میں سر بہ سجدہ ہوا کبھی تو زمیں سے آنے لگی صدا
ترا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں
کبھی جو آوارۂ جنوں تھے وہ بستیوں میں پھر آ بسیں گے
برہنہ پائی وہی رہے گی مگر نیا خار زار ہوگا
سنا دیا گوش منتظر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا پھر استوار ہوگا
دیار مغرب کے رہنے والو خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو وہ اب زر کم عیار ہوگا
کہا جو قمری سے میں نے اک دن یہاں کے آزاد پا بہ گل ہیں
تو غنچے کہنے لگے ہمارے چمن کا یہ رازدار ہوگا
نہ پوچھ اقبالؔ کا ٹھکانہ ابھی وہی کیفیت ہے اس کی
کہیں سر رہ گزار بیٹھا ستم کش انتظار ہوگا