میرے پاس دو وطن ہیں اور میں دونوں میں ادھوری ہوں
ایک جہاں میں پیدا ہوئی دوسرا جہاں میں رہتی ہوں
ایک کی مٹی میری جڑوں میں بسی ہوئی ہے
دوسرے کی ہوا میرے سانسوں میں گھلی ہوئی ہے
جب یہاں دن ہوتا ہے تو وہاں ہوتی ہے
میں دو وقتوں کے بیچ کہیں ٹہلتی رہتی ہوں
شاید یہی ہے میری کہ میں
ہر جگہ رہوں مگر کہیں بھی پوری طرح نہ رہوں
میں مشرق کی بیٹی ہوں مگر مغرب میں بسی ہوں
دو دنیاؤں کے درمیان ایک پل سی تنی ہوں
وطن وہ نہیں جہاں پیدا ہوئے تھے ہم
وطن وہ ہے جہاں دل کو قرار آتا ہے
اپنی زبان کو پردیس میں یوں سنبھالے رکھتی ہوں
جیسے کوئی ماں اپنے بچے کو سینے سے لگائے
دور سے دیکھتی ہوں تو مشرق اور بھی روشن لگتا ہے
شاید دوری ہی محبت کا اصلی رنگ دکھاتی ہے
رات کے اس پار بھی ایک رات میری منتظر ہے
دو ملکوں کے درمیان میرا چاند بٹا ہوا ہے
ہر شام یہاں ڈھلتی ہے تو وہاں صبح ہوتی ہے
میں دونوں کے بیچ کہیں گم سی رہ جاتی ہوں