سلمیٰ تیری میں آج پھر آنسو بہائے ہیں
کی چاندنی میں تیری تصویر بنائی ہے
ہر پھول میں دیکھی ہے میں نے تیری مسکراہٹ
ہر رات ستاروں میں تیری آنکھیں پائی ہیں
تو دور سہی پر تو میرے دل کے قریب ہے
تیری یاد کا دیا ہر شب میں نے جلایا ہے
اے میری محبت کی دیوی اے میری سلمیٰ
تجھ بن یہ جہان میں نے ادھورا ہی پایا ہے
اے عشق ہمیں برباد نہ کر برباد نہ کر
اک دل ہے ہمارے پاس مگر ناشاد نہ کر
وہ آئے تو ہر رات ستاروں میں ڈھل جائے
وہ بھول بھی جائے تو مگر یاد نہ جائے
محبت کے افسانے لکھے ہیں مری جوانی نے
ہر ایک لفظ میں چھپی ایک آنسو کی کہانی ہے
وہ چاند سی صورت مری راتوں میں اتر آئے
میں نیند سے جاگ اٹھوں تو بس اس کا خیال آئے
گل کی طرح کھلتا ہے تیرا نام مرے لب پر
اور باغِ تصور میں بہار آنے لگتی ہے
جدائی کی شامیں کٹیں تو کیسے کٹیں
تیرے بغیر تو دن بھی اندھیری رات لگے