اے دیس سے آنے والے بتا کس حال میں ہیں یارانِ وطن
وہ باغِ وطن فردوسِ وطن وہ سروِ وطن لالانِ وطن
اے دیس سے آنے والے بتا وہ صبح ہماری کیا ہوئی
وہ شام سہانی کیا ہوئی وہ کی رانی کیا ہوئی
کیا اب بھی وہاں بارش میں بھی گاؤں کی گلی مہکی ہوئی
کیا اب بھی وہاں کوئل کی صدا امرائی میں ہے گونجی ہوئی
اے دیس سے آنے والے بتا وہ لوگ ابھی تک ہیں کہ نہیں
وہ پیار ابھی تک زندہ ہے وہ ریت ابھی تک ہے کہ نہیں
اے عشق ہمیں برباد نہ کر برباد نہ کر
اک دل ہے ہمارے پاس مگر ناشاد نہ کر
وہ آئے تو ہر رات ستاروں میں ڈھل جائے
وہ بھول بھی جائے تو مگر یاد نہ جائے
محبت کے افسانے لکھے ہیں مری جوانی نے
ہر ایک لفظ میں چھپی ایک آنسو کی کہانی ہے
وہ چاند سی صورت مری راتوں میں اتر آئے
میں نیند سے جاگ اٹھوں تو بس اس کا خیال آئے
گل کی طرح کھلتا ہے تیرا نام مرے لب پر
اور باغِ تصور میں بہار آنے لگتی ہے
جدائی کی شامیں کٹیں تو کیسے کٹیں
تیرے بغیر تو دن بھی اندھیری رات لگے
آوارہ
مجاز لکھنوی